قاہرہ،4جولائی(آئی این ایس انڈیا)مصر میں ایک شخص نے ایک عجیب وغریب وجہ کی بناء پر اپنی بیوی اور ایک ڈیڑھ ماہ کی بچی کا کو ذبح کرکے ان کے سرتن سے جدا کردیے۔ یہ لرزہ خیز واقعہ دارالحکومت قاہرہ کے نواحی علاقے النمرس میں پیش آیا۔تفصیلات کے مطابق پولیس کو ایک گھر میں کسی خاتون کے قتل کی اطلاع دی گئی۔ پولیس نے چھاپہ مارا تو ایک گھر سے 23سالہ لڑکی اور ایک ڈیڑھ ماہ کی سربریدہ لاشیں پڑی تھیں۔پولیس نے مقتولہ کے شوہر کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا کہ اس نے بچی کی قمر پر بال دیکھے تو اسے شک ہوا کہ یہ بچی اس کی نہیں بلکہ اس کی بیوی نے اس کے ساتھ بد دیانتی کی ہے۔ اس لیے وہ طیش میں آیا اور بچی اور اس کی ماں دونوں کو قتل کرڈالا۔
پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ مقتولہ خاتون اور بچی کے جسم پر تیز دھار چاقو سے کیے گئے وار کے نشانات موجود ہیں۔ جنونی شخص نے نہ صرف دونوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ ذبح کردیا بلکہ ان کے سرتن سے جدا کردیے۔ 33سالہ مجرم نے بتایا کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان شادی کے ایک ہفتے بعد ہی شکوک وشبہات پیداہوگئے تھے۔ اس کے گھر سے باہر رہنے پر وہ شک کرتا تھا۔تاہم بچی کی پیدائش کے بعد دونوں میاں بیوی میں اختلافات ختم ہوگئے تھے اور انہوں نے مل کر بچی کی پرورش کا فیصلہ کیا تھا۔ حادثے کے روز اس نے بچی اٹھائی تو اس کی کمر پر بال نظر آئے حالانکہ بچی کی پشت پر پہلے بال نہیں تھے۔ اس پر اسے بیوی پر بد دیانتی کا شبہ ہوا اور اس نے نتائج سے بے پرواہ ہو کر بیوی اور ڈیڑھ ماہ کی بچی کو ذبح کر ڈالا۔